تقدیر بدلنی ہے تو نظام بدلو
تحریر: بنت ارشاد امریکا میں ایک قتل ہو جائے تو پولیس کو کئی دن چین نہیں ملتا جب تک وہ قاتل کو ڈھونڈ نہیں لیتے۔ ایک یہاں کا نظام ہے جو مر جاتے ہیں پہلی کوشش یہی کی جاتی ہے کہ اس کے قتل کا مدعا اس کے کسی اپنے پہ ہی ڈال دیا جائے تاکہ زیادہ تفتیش کی زحمت نا کرنی پڑے۔ بالفرض کوئی انصاف کروانا بھی چاہے تو سب سے پہلے اپنا بینک بیلنس دیکھ لے کہ انصاف مفت تھوڑا ہی ملتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں پھر بھی کسی ضعیف ریٹائرڈ افسر کو دفتروں کے دھکے کھائے اور رشوت دیئے بنا پینشن اور گریجویٹی جاری نہیں کی جاتی۔ لوگ کیا کریں عرش والے کے بنائے ہوئے جہنم سے بچیں یا فرش والوں کے بنائے ہوئے جہنم کو بھگتیں اور ایک جہنم تو پیٹ کی آگ بھی ہے نا جس کو بجھانے کے لیے حرام بھی حلال کر دیا گیا ہے۔ وہ تو 70مائوں سے زیادہ چاہنے والا رب ہے جو بھوک کی شدت میں حرام بھی حلال کر دیتا ہے، ورنہ دنیا تو حلال بھی چھیننے کے درپے ہے۔ اپنے اردگرد دیکھوں تو یوں لگتا ہے جیسے ہر طرف قیامت کا سماں ہے یوں لگتا ہے جیسے کوئی ابھی گولیوں سے چھلنی کر دے گا اتنا غیر محفوظ تو میرا ملک کبھ...